Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خضر کے مانند خواہاں زندگانی کا نہیں

علی میاں کامل لکھنوی

خضر کے مانند خواہاں زندگانی کا نہیں

علی میاں کامل لکھنوی

MORE BYعلی میاں کامل لکھنوی

    خضر کے مانند خواہاں زندگانی کا نہیں

    اے اجل تشنہ میں اس دریا کے پانی کا نہیں

    قید ہو کر لطف عمر جاودانی کا نہیں

    حظ تمہیں اے خضر اپنی زندگانی کا نہیں

    مشتری کوئی یہاں جنس معانی کا نہیں

    ایک بھی گاہک متاع نکتہ دانی کا نہیں

    سن ابھی کم ہے نہ کھولو روئے روشن سے نقاب

    آئنہ صورت نما حسن جوانی کا نہیں

    کیوں اترتا ہے ہمارے قلزم مواج میں

    آشنا اے دوست تو بحر معانی کا نہیں

    اک نظر صورت دکھا کر کیجیے مجھ سے حجاب

    یوں مزہ اے بندہ پرور لن ترانی کا نہیں

    دید یوسف کا فقط طالب ہوں اے بازار مصر

    غم مجھے قیمت کی ارزانی گرانی کا نہیں

    با معانی ہے سخن میرا سمجھ کر اس کو دیکھ

    یہ جریدہ ہم نشیں اژرنگ مانی کا نہیں

    درد کو ہمراہ کیوں لاتا ہے دل میں وہ خدنگ

    کیا سلیقہ خود اسے راحت رسانی کا نہیں

    دیکھ کر لبریز خوں کیا مانگتے ہو مجھ سے تم

    دل ہے یہ ساغر شراب ارغوانی کا نہیں

    کیوں ہمارے دل میں آ کر آرزوئیں پھر گئیں

    یہ سرائے حزن ہے گھر شادمانی کا نہیں

    آج تو ہی اے جگر سیخ نفس پر ہو کباب

    کوئی ساماں درد دل کی میہمانی کا نہیں

    پا برہنہ ہو کے موسیٰ آگ لینے کو بڑھیں

    وادیٔ ایمن ہے یہ صحرا شبانی کا نہیں

    ربط رکھنا اب حسینوں سے ہے کاملؔ بے محل

    شور و شر کے دن گئے موسم جوانی کا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے