بات جب آ ہی گئی سامنے مجبوری کی
بات جب آ ہی گئی سامنے مجبوری کی
کھیلتے کودتے بچوں نے بھی مزدوری کی
میں نے پھر پیاس چھپانے کا ہنر سیکھ لیا
ایک دریا نے مرے سامنے مغروری کی
سو گئے شہر خموشاں میں کئی نام و نشاں
موت نے کاٹ دیں سب رسیاں مشہوری کی
میں نے روشن نہ کئے کوئی امیدوں کے چراغ
میں نے دنیائے تصور میں بھی بے نوری کی
کاشفؔ سست کمر باندھ اتر میداں میں
خواب رہ جائیں گے سب نیند اگر پوری کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.