Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سینہ سپر ہیں ظلم کی تلوار کے لیے

سیف زلفی

سینہ سپر ہیں ظلم کی تلوار کے لیے

سیف زلفی

MORE BYسیف زلفی

    سینہ سپر ہیں ظلم کی تلوار کے لیے

    پیدا ہوئے ہیں ہم رسن و دار کے لیے

    جس میں سکت نہیں ہے وہ ہٹ جائے راہ سے

    آندھی اٹھی ہے شہر کی دیوار کے لیے

    اس حادثے میں ساری ہی بستی شریک تھی

    دو چار نام خاص تھے اخبار کے لیے

    لکھتے رہے لہو سے ترے غم کی داستاں

    جلتے رہے چراغ شب تار کے لیے

    ہم کیا کہیں کہ وقت کے ماتھے کی جھریاں

    گویا زباں ہیں درد کے اظہار کے لیے

    پانی نے چاروں اور سے مسدود کر دیا

    رستہ نہ مل سکا کوئی اس پار کے لیے

    ڈوبا ہوں ساحلوں کی اداسی کو دیکھ کر

    طوفاں اٹھے نہ مجھ سے سبک سار کے لیے

    ہم نے تو اپنے غم سے جوانی نکھار لی

    ہم کو تو اپنا غم ہی ملا پیار کے لیے

    دفتر کے قید و بند میں جکڑے ہوئے ہیں دن

    راتیں ہیں وقف ذکر غم یار کے لیے

    کالج سے اس کو آج بھی چھٹی نہ مل سکی

    کتنے حسین خواب تھے اتوار کے لیے

    زلفیؔ ہمارے دور میں کیا اس کی اہمیت

    وہ شاعری جو وقف تھی دربار کے لیے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے