سینہ سپر ہیں ظلم کی تلوار کے لیے
سینہ سپر ہیں ظلم کی تلوار کے لیے
پیدا ہوئے ہیں ہم رسن و دار کے لیے
جس میں سکت نہیں ہے وہ ہٹ جائے راہ سے
آندھی اٹھی ہے شہر کی دیوار کے لیے
اس حادثے میں ساری ہی بستی شریک تھی
دو چار نام خاص تھے اخبار کے لیے
لکھتے رہے لہو سے ترے غم کی داستاں
جلتے رہے چراغ شب تار کے لیے
ہم کیا کہیں کہ وقت کے ماتھے کی جھریاں
گویا زباں ہیں درد کے اظہار کے لیے
پانی نے چاروں اور سے مسدود کر دیا
رستہ نہ مل سکا کوئی اس پار کے لیے
ڈوبا ہوں ساحلوں کی اداسی کو دیکھ کر
طوفاں اٹھے نہ مجھ سے سبک سار کے لیے
ہم نے تو اپنے غم سے جوانی نکھار لی
ہم کو تو اپنا غم ہی ملا پیار کے لیے
دفتر کے قید و بند میں جکڑے ہوئے ہیں دن
راتیں ہیں وقف ذکر غم یار کے لیے
کالج سے اس کو آج بھی چھٹی نہ مل سکی
کتنے حسین خواب تھے اتوار کے لیے
زلفیؔ ہمارے دور میں کیا اس کی اہمیت
وہ شاعری جو وقف تھی دربار کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.