فسردہ شخص اگرچہ غریب و سادہ ہے
فسردہ شخص اگرچہ غریب و سادہ ہے
تمھارے ظرف کی وسعت سے کچھ زیادہ ہے
ہے شاہ مات یقینی اسے بڑھاؤں اگر
مری بساط کا جو آخری پیادہ ہے
رفاقتوں کی تمنا وبال جاں ہے مگر
یہ گزرے وصل گئے ہجر کا اعادہ ہے
بہ صد یقین مکمل ہوا جو لمحوں میں
وہ چہرہ صورت امکان سے بھی آدھا ہے
سپاہ شام اسے بھی نہ نوچ لے اظہرؔ
شکستہ لاش کا جو آخری لبادہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.