خوشبو کے حوالوں سے مگس یاد کریں گے
خوشبو کے حوالوں سے مگس یاد کریں گے
پھولوں پہ مہکتا ہوا رس یاد کریں گے
کٹتے ہوئے پیڑوں سے لپٹ جاتے ہیں پنچھی
فطرت کا سبق اہل ہوس یاد کریں گے
ہر سال گزرتے ہوئے لمحات نے لوٹا
ہم بیتے ہوئے کتنے برس یاد کریں گے
یہ زلف یہ ابرو یہ تبسم یہ نزاکت
ہم چھوٹ کے بھی قید قفس یاد کریں گے
اس آنکھ میں تپتا ہوا اک دشت ہے عادلؔ
اے غم کی گھٹا اور برس یاد کریں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.