خود ساختہ باتیں تھیں صحیفہ کسے کہتے
خود ساختہ باتیں تھیں صحیفہ کسے کہتے
ہم شہر عداوت میں مسیحا کسے کہتے
جس جس کو بھی دیکھا وہی مصروف عمل تھا
ہم بزم میں اس دل کا فسانہ کسے کہتے
جب صاحب ساحل نے ہی ساحل کو نہ مانا
پھر ڈوبنے والے بھی کنارہ کسے کہتے
وہ تیری گلی ہو یا رقیبوں کی نظر ہو
ہم اپنے سوا اور تماشا کسے کہتے
نور آنکھ کا کھویا نہ جوانی ہی گنوائی
دو دن کے دوانوں میں زلیخا کسے کہتے
سر سجدے میں رکھنا ہی ضروری تھا تو پھر ہم
اس ارض پہ مسجد یا کلیسا کسے کہتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.