Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خود ساختہ باتیں تھیں صحیفہ کسے کہتے

فیضی ابابیل

خود ساختہ باتیں تھیں صحیفہ کسے کہتے

فیضی ابابیل

MORE BYفیضی ابابیل

    خود ساختہ باتیں تھیں صحیفہ کسے کہتے

    ہم شہر عداوت میں مسیحا کسے کہتے

    جس جس کو بھی دیکھا وہی مصروف عمل تھا

    ہم بزم میں اس دل کا فسانہ کسے کہتے

    جب صاحب ساحل نے ہی ساحل کو نہ مانا

    پھر ڈوبنے والے بھی کنارہ کسے کہتے

    وہ تیری گلی ہو یا رقیبوں کی نظر ہو

    ہم اپنے سوا اور تماشا کسے کہتے

    نور آنکھ کا کھویا نہ جوانی ہی گنوائی

    دو دن کے دوانوں میں زلیخا کسے کہتے

    سر سجدے میں رکھنا ہی ضروری تھا تو پھر ہم

    اس ارض پہ مسجد یا کلیسا کسے کہتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے