اثر سے ہیں تہی نالے تصرف سے ہیں دم خالی
اثر سے ہیں تہی نالے تصرف سے ہیں دم خالی
نیستاں ہو گئے شیروں سے یارب یک قلم خالی
نظر آیا بھی احوال جہاں اس میں تو کیا حاصل
جو دل میں نقش ہے اپنے ہے اس سے جام جم خالی
کدورت سے زمانے کی بہ رنگ شیشہ ساعت
ملے ہمدرد اگر کوئی تو کیجے دل بہم خالی
تہی دستی ہماری دیکھ چشم کم سے مت منعم
کہ ہے یہ ہاتھ شکل کیسۂ اہل کرم خالی
کہیں جانا ہے تو ہستی سے جا اودھر کو اے سوداؔ
خلل سے راہ پاوے گا نہ جز راہ عدم خالی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.