شب و روز اور دم بہ دم دیکھتے ہیں
شب و روز اور دم بہ دم دیکھتے ہیں
انہیں پھر بھی ہم کتنا کم دیکھتے ہیں
نظر بت تراشوں کی جن کو ملی ہے
چٹانوں کے اندر صنم دیکھتے ہیں
غضب ہے گلوں کی بہار آفرینی
ترے رخ پہ کتنے ارم دیکھتے ہیں
ہے شیشے پہ ان کی نگاہیں بھی لیکن
نہیں دیکھتے وہ جو ہم دیکھتے ہیں
عجب دور ہے یہ کہ لفظوں کے اندر
ادیبوں کے ٹوٹے قلم دیکھتے ہیں
نہیں دیکھ سکتے جسے چاند تارے
وہ منظر اندھیرے میں ہم دیکھتے ہیں
چھڑا ذکر جب بھی کسی گل پری کا
تقیؔ صرف سوئے عجم دیکھتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.