نہ زلف شام نہ روئے سحر کو دیکھتے ہیں
نہ زلف شام نہ روئے سحر کو دیکھتے ہیں
ہم اہل شوق تمہاری نظر کو دیکھتے ہیں
ہجوم رحمت پروردگار کیا کہیے
مقام عظمت دامان تر کو دیکھتے ہیں
ہیں نو اسیر گمان و یقین کے پھندے میں
کبھی قفس کو کبھی بال و پر کو دیکھتے ہیں
اب اہل ہوش پہ ٹوٹے ہیں حیرتوں کے پہاڑ
مرے جنون وفا کے اثر کو دیکھتے ہیں
قدم قدم پہ نظر آ گئی ہمیں منزل
وہ اور لوگ ہیں جو رہ گزر کو دیکھتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.