مریض عشق دل زار کی پناہ میں ہے
مریض عشق دل زار کی پناہ میں ہے
کہ اس کے درد کا درماں تری نگاہ میں ہے
کروں تو شہر تمنا سے کس طرح ہجرت
کہ اس کی یاد کی دیوار میری راہ میں ہے
وہ حسن طرز نہ مل پائے گا کتابوں میں
جو رنگ اپنے ادیبوں کی بارگاہ میں ہے
یہ ضبط کا ہے اثر لب پہ ایک حرف نہیں
کہ درد جو بھی ہے اپنا وہ دل کی آہ میں ہے
میں خود ہی رہ گیا راویؔ اندھیروں میں جبکہ
مری حیات کا ہر رنگ اس کی چاہ میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.