Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل کو یہ ترک تعلق کی سزا دی جائے

شمس الدین تاباں

دل کو یہ ترک تعلق کی سزا دی جائے

شمس الدین تاباں

MORE BYشمس الدین تاباں

    دل کو یہ ترک تعلق کی سزا دی جائے

    حیثیت اس کی نگاہوں سے گرا دی جائے

    دین و ایماں دل و جاں قیمت یک جلوہ کہاں

    عشق کی راہ میں ہر چیز لٹا دی جائے

    کیا پڑی ہے کوئی نفرت سے بھی دیکھے ہم کو

    دل دکھائے تو اسے دل سے دعا دی جائے

    رات کے ساتھ ہی جل اٹھتے ہیں داغوں کے چراغ

    شمع بے کار جلاتے ہو بجھا دی جائے

    میں نے اب ترک محبت کی قسم کھائی ہے

    یہ خبر سارے حسینوں کو سنا دی جائے

    کچھ بدلنے سے سنورتا نہیں فرسودہ سماج

    گرتی دیوار ہے بنیاد سے ڈھا دی جائے

    ظلمت یاس جو بڑھ جائے شب غم تاباںؔ

    شمع امید کی لو اور بڑھا دی جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے