دل کو یہ ترک تعلق کی سزا دی جائے
دل کو یہ ترک تعلق کی سزا دی جائے
حیثیت اس کی نگاہوں سے گرا دی جائے
دین و ایماں دل و جاں قیمت یک جلوہ کہاں
عشق کی راہ میں ہر چیز لٹا دی جائے
کیا پڑی ہے کوئی نفرت سے بھی دیکھے ہم کو
دل دکھائے تو اسے دل سے دعا دی جائے
رات کے ساتھ ہی جل اٹھتے ہیں داغوں کے چراغ
شمع بے کار جلاتے ہو بجھا دی جائے
میں نے اب ترک محبت کی قسم کھائی ہے
یہ خبر سارے حسینوں کو سنا دی جائے
کچھ بدلنے سے سنورتا نہیں فرسودہ سماج
گرتی دیوار ہے بنیاد سے ڈھا دی جائے
ظلمت یاس جو بڑھ جائے شب غم تاباںؔ
شمع امید کی لو اور بڑھا دی جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.