برسوں تلک جہان میں ڈھونڈا نہیں ملا
برسوں تلک جہان میں ڈھونڈا نہیں ملا
کوئی بھی ہم کو آپ سے اچھا نہیں ملا
چہرے تو مل گئے تھے کئی دل نشیں مگر
رخسار پہ وہ قاف کا نقطہ نہیں ملا
یا تو جبیں نہیں ملی یا زلف رہ گئی
سامان میرے قتل کا پورا نہیں ملا
ہم پر چلائے تیر نگاہوں کے حسن نے
لیکن کوئی نشانچی تم سا نہیں ملا
اک باغ میں گئے جہاں لاکھوں گلاب تھے
لیکن لبوں سا آپ کے غنچہ نہیں ملا
میں غم مناؤں آپ کے جانے کا کس طرح
میں ایسا قیس ہوں جسے صحرا نہیں ملا
میں قید میں بھی زندگی ہنس کر گزارتا
جو مجھ کو چاہیئے تھا وہ پنجرہ نہیں ملا
ہم بد نصیب لوگ ہیں رونے کے واسطے
چھت پر ہمیں عمیر سا کمرا نہیں ملا
غم سے انسؔ رہائی کا اس کائنات میں
اک راستہ ہے خودکشی دوجا نہیں ملا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.