آنکھ بوجھل ہے نیند طاری ہے
آنکھ بوجھل ہے نیند طاری ہے
شعر کا سلسلہ بھی جاری ہے
تیری یادیں ہیں بے قراری ہے
دل تڑپتا ہے اشک جاری ہے
زندگانی کا بوجھ بھاری ہے
چلتے رہنے کا حکم جاری ہے
دل کے برعکس کیسے کہہ دوں میں
زندگانی سے دل کی یاری ہے
کل میں سویا تھا خوب شاید آج
رات بھر جاگنے کی باری ہے
تم نہیں ہو خود اپنی ہستی کے
ساری دنیا اگر تمہاری ہے
غفلتوں کی جو اک خماری تھی
میری تقدیر نے اتاری ہے
بے سکونی میں ہے سکوں سا کچھ
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
درد میں مبتلا ہے دل کیوں کر
درد سے دل کی رشتہ داری ہے
چین سے سو لیں جب کبھی چاہیں
کیفیت یوں نہیں ہماری ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.