یوں ہی زباں پہ لگ گیا قطرہ شراب کا
یوں ہی زباں پہ لگ گیا قطرہ شراب کا
شب بھر رہا دماغ پہ قبضہ شراب کا
مجھ پر خمار تو نہیں تنہا شراب کا
آدھا نشہ ہے عشق کا آدھا شراب کا
یادیں تمہاری ہوش میں تڑپائیں گی ہمیں
مر جائیں گے اگر نشہ اترا شراب کا
اک دو گلاس سے میرا ہوگا بھی کیا میاں
لاؤ کوئی ندی کوئی دریا شراب کا
آسان ہے پتہ مرا مسجد کے سامنے
اک دو مکان چھوڑ کے ٹھیکا شراب کا
ہم کو غزل تو پھول پہ لکھنی تھی پر انسؔ
جانے کہاں سے آ گیا مصرع شراب کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.