ہر ایک رخ سے کہاں روشنی نکلتی ہے
ہر ایک رخ سے کہاں روشنی نکلتی ہے
دیوں کے جسم سے بھی تیرگی نکلتی ہے
ہمارے لوگوں سے پوچھو ہے تشنگی کیا شے
تمہارے شہر سے ہو کر ندی نکلتی ہے
دکھائی دیتے ہیں پھیکے یہ حسن والے بھی
دوپٹہ اوڑھ کے جب سادگی نکلتی ہے
تمہارا نام جو سنتا ہوں غیر کے لب سے
میں کیا بتاؤں مری جان سی نکلتی ہے
یہ لگ رہا ہے کہ تم نے بھی دیکھ لی دنیا
تمہارے چہرے سے سنجیدگی نکلتی ہے
پلک جھپکنے کہ مہلت بھی مل نہیں پاتی
کسی کے ہاتھ سے جب زندگی نکلتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.