مسافروں کو سہولت ہو اس لیے میں نے
مسافروں کو سہولت ہو اس لیے میں نے
جلا دئیے ہیں سر راہ کچھ دئیے میں نے
حیات مجھ کو مئے تلخ پیش کرتی رہی
کمال ضبط سلامت رکھا پیے میں نے
قضا کو چاہیئے اب میرا احترام کرے
جو دن گزارنے مشکل تھے وہ جیے میں نے
کہ میں نے خواب میں اک رات اپنا گھر دیکھا
پھر اس کے بعد مسلسل سفر کیے میں نے
جو پھٹ گئے تھے تعلق کے پیرہن کاشفؔ
وہ در گزر سے محبت سے سب سیے میں نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.