اچھا ہے ملاقات ہو کم کم اسے کہنا
اچھا ہے ملاقات ہو کم کم اسے کہنا
زخموں سے چپک جاتے ہیں مرہم اسے کہنا
کچھ صدیوں پرانے ہیں تو کچھ صدیوں نئے ہیں
کچھ اپنے زمانے کے نہیں ہم اسے کہنا
دنیا میں فقیروں کی جگہ ہی نہیں بنتی
تصویر میں آتا نہیں البم اسے کہنا
یہ اس کو بناتے ہوئے معلوم تھا مجھ کو
خالق کو نگل جاتا ہے ریشم اسے کہنا
وہ بھیڑ سے ہٹ کر کہیں بیٹھا ہوا ہوگا
اک دن تو نکلنا تھا مرا دم اسے کہنا
لاشوں کو ہماری جو کفن دیتے نہیں تھے
قبروں پہ چڑھاتے ہیں وہ پرچم اسے کہنا
حارثؔ یہ کتابوں کا زمانہ تو نہیں ہے
لوگوں پہ اترتا ہے کوئی غم اسے کہنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.