کچھ ٹھکانا ہے ناتوانی کا
کچھ ٹھکانا ہے ناتوانی کا
نہ اٹھا بوجھ زندگانی کا
مرگ جس کو جہاں میں کہتے ہیں
نام ہے میری زندگانی کا
مثل شبنم ہماری قسمت میں
ایک دانہ ہے وہ بھی پانی کا
بہر نام سکندر آئینہ
چشمہ ہے آب زندگانی کا
نہ اٹھا مفلسی میں دست سوال
ہے یہ احسان ناتوانی کا
منتظر حشر میں ہے دامن تر
مہر محشر کی مہربانی کا
زیست کا اعتبار کیا ہے امیرؔ
آدمی بلبلہ ہے پانی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.