رہنما کوئی نہ کوئی نقش پا لے جائے گا
رہنما کوئی نہ کوئی نقش پا لے جائے گا
منزل مقصود تک خود حوصلہ لے جائے گا
جو مسافر ہے اسے کیا دھوپ کی شدت کا غم
سر پہ سائے کے لیے ماں کی دعا لے جائے گا
سنگ باری مشغلہ جن کا ہے ان کے شہر میں
کیسے کوئی آئنہ گر آئنہ لے جائے گا
شہر امراض و بلا کا دیکھنا یہ بھی تضاد
چارہ گر بیمار سے آ کر دوا لے جائے گا
اس کی چالاکی سے شاید آپ واقف ہی نہیں
وہ بشر آنکھوں سے کاجل تک چرا لے جائے گا
راحت جاں جس کو تم کاوشؔ سمجھتے ہو وہی
شب کی آسائش سکوں دن کا چرا لے جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.