Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رہنما کوئی نہ کوئی نقش پا لے جائے گا

کاوش کمال

رہنما کوئی نہ کوئی نقش پا لے جائے گا

کاوش کمال

MORE BYکاوش کمال

    رہنما کوئی نہ کوئی نقش پا لے جائے گا

    منزل مقصود تک خود حوصلہ لے جائے گا

    جو مسافر ہے اسے کیا دھوپ کی شدت کا غم

    سر پہ سائے کے لیے ماں کی دعا لے جائے گا

    سنگ باری مشغلہ جن کا ہے ان کے شہر میں

    کیسے کوئی آئنہ گر آئنہ لے جائے گا

    شہر امراض و بلا کا دیکھنا یہ بھی تضاد

    چارہ گر بیمار سے آ کر دوا لے جائے گا

    اس کی چالاکی سے شاید آپ واقف ہی نہیں

    وہ بشر آنکھوں سے کاجل تک چرا لے جائے گا

    راحت جاں جس کو تم کاوشؔ سمجھتے ہو وہی

    شب کی آسائش سکوں دن کا چرا لے جائے گا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے