ہنستی رہو کہ دیپ کے تیور میں دم رہے
ہنستی رہو کہ دیپ کے تیور میں دم رہے
مجھ کہکشاں کے ساتھ ہوا کا بھرم رہے
گنتی کے چند سال مقدر میں ماں رہی
بچپن گزر چکا تھا سو خوشیوں سے تھم رہے
ہم نے تمہارے ساتھ بتائے ہیں چار دن
الحمد زندگی کی صدا کا ردھم رہے
بے شک کوئی کسی کا بھی نعم البدل نہیں
لیکن وہ چاند جس کی محبت میں ہم رہے
وہ تھا تو زندگی کے مقاصد تھے لیکن اب
کاشفؔ میں چاہتا ہوں یہ طوفان تھم رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.