بلندی دے کے خود کو پھر خودی کو خوار کرنا
بلندی دے کے خود کو پھر خودی کو خوار کرنا
بشر کو بس یہی تو آتا ہے ہر بار کرنا
مجھے مٹی بنا دینا کبھی فرصت ملے تو
اسی سے پھر کئی شاعر نئے تیار کرنا
کھلا ہی کب تمہارا در کسی کی دستکوں پر
تمہیں سے میں نے سیکھا ہے مگر اصرار کرنا
بہت سے تیر مجھ پر ہیں زمانے نے چلائے
ہنر بس آپ میں تھا سینے کے اس پار کرنا
ہمیں معلوم ہیں زخموں کے مرہم بھی مگر ہم
یہی ترکیب رکھتے ہیں کہ ان پر وار کرنا
اگر مل جائے وہ آننؔ تو قصہ ختم ہی ہے
اسی میں خیر ہے بس دور سے دیدار کرنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.