ذہنوں کو بیمار بنایا جاتا ہے
ذہنوں کو بیمار بنایا جاتا ہے
شبدوں کو ہتھیار بنایا جاتا ہے
ظاہر کو اسرار بنایا جاتا ہے
جسموں کو اوزار بنایا جاتا ہے
پہلے پیدا کی جاتی ہے خواہش پھر
اس کا اک بازار بنایا جاتا ہے
جو رستہ ہے اس خالق تک جانے کا
اس کو ہی دیوار بنایا جاتا ہے
جس کوچی سے نفرت کی تصویر بنی
پاگل اس سے پیار بنایا جاتا ہے
افسانہ افسانہ ہی تب لگتا ہے
جب تیرا کردار بنایا جاتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.