ذکر ماضی گو بھلا بیٹھے ہیں اپنے دل سے ہم
ذکر ماضی گو بھلا بیٹھے ہیں اپنے دل سے ہم
ہاں مگر غافل نہیں ہیں فکر مستقبل سے ہم
بخت بد کی نارسائی کا گلہ کیا کیجئے
کارواں منزل پہ ہے اور دور ہیں منزل سے ہم
یا لگے مٹی ٹھکانے یا ہوں پامال جفا
اب کہاں جائیں نکل کر کوچۂ قاتل سے ہم
اللہ اللہ ان بتوں کی کج ادائی دیکھیے
بے وفا سمجھیں ہمیں گو لاکھ چاہیں دل سے ہم
دیکھیے محشر میں کیوں کر طے ہو راہ پل صراط
قبر تک مر مر کے پہنچے ہیں بڑی مشکل سے ہم
زخم کھا کھا کر تڑپنے تلملانے کا مزہ
خود ہی ہم بسملؔ ہیں کیا پوچھیں کسی بسملؔ سے ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.