اک دوجے کے بارے سوچا کرتے تھے
اک دوجے کے بارے سوچا کرتے تھے
چاند کو چھت پر جا کر دیکھا کرتے تھے
اب جو بات نہیں کرتے ہیں کل تک وہ
فون پہ ہر اک بات بتایا کرتے تھے
آج وہی ہے بس ہیں شہر میں لوگ یہاں
کل تک جن کے ناز اٹھایا کرتے تھے
انجانے میں بھول اگر ہو جاتی تو
آپ اشاروں سے بتلایا کرتے تھے
ان کے آنے کا جب سنتے تھے تو ہم
دیواروں پر دیپ جلایا کرتے تھے
بیٹھ کے تنہا کمرے میں چپ چاپ سے ہم
تیرے بن یوں عید منایا کرتے تھے
قیصرؔ تنہائی میں روتے تھے لیکن
سب سے اپنے اشک چھپایا کرتے تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.