Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اک دوجے کے بارے سوچا کرتے تھے

قیصر عمران سیالوی

اک دوجے کے بارے سوچا کرتے تھے

قیصر عمران سیالوی

MORE BYقیصر عمران سیالوی

    اک دوجے کے بارے سوچا کرتے تھے

    چاند کو چھت پر جا کر دیکھا کرتے تھے

    اب جو بات نہیں کرتے ہیں کل تک وہ

    فون پہ ہر اک بات بتایا کرتے تھے

    آج وہی ہے بس ہیں شہر میں لوگ یہاں

    کل تک جن کے ناز اٹھایا کرتے تھے

    انجانے میں بھول اگر ہو جاتی تو

    آپ اشاروں سے بتلایا کرتے تھے

    ان کے آنے کا جب سنتے تھے تو ہم

    دیواروں پر دیپ جلایا کرتے تھے

    بیٹھ کے تنہا کمرے میں چپ چاپ سے ہم

    تیرے بن یوں عید منایا کرتے تھے

    قیصرؔ تنہائی میں روتے تھے لیکن

    سب سے اپنے اشک چھپایا کرتے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے