تعلق کو نبھانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے
تعلق کو نبھانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے
کسی کو اب منانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے
بڑے ہی بھید دل میں تھے زباں چپ تھی مگر اب تو
حقیقت کو چھپانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے
ذرا سی بات پر رونا مرے بچپن کی عادت تھی
کہ خود کو اب رلانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے
غموں نے آن گھیرا ہے طبیعت چپ سی رہتی ہے
کسی کو اب ہنسانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے
منا لیتا تھا جن رشتوں کو آسانی سے بچپن میں
انہی کو اب منانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے
طبیعت آج برہم تھی جو تھا ممکن وہ کہہ ڈالا
سبھی باتیں بتانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے
غزل جو کہہ رہا ہوں میں یہ میری آپ بیتی ہے
اسے قیصرؔ سنانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.