Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تعلق کو نبھانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے

قیصر عمران سیالوی

تعلق کو نبھانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے

قیصر عمران سیالوی

MORE BYقیصر عمران سیالوی

    تعلق کو نبھانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے

    کسی کو اب منانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے

    بڑے ہی بھید دل میں تھے زباں چپ تھی مگر اب تو

    حقیقت کو چھپانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے

    ذرا سی بات پر رونا مرے بچپن کی عادت تھی

    کہ خود کو اب رلانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے

    غموں نے آن گھیرا ہے طبیعت چپ سی رہتی ہے

    کسی کو اب ہنسانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے

    منا لیتا تھا جن رشتوں کو آسانی سے بچپن میں

    انہی کو اب منانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے

    طبیعت آج برہم تھی جو تھا ممکن وہ کہہ ڈالا

    سبھی باتیں بتانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے

    غزل جو کہہ رہا ہوں میں یہ میری آپ بیتی ہے

    اسے قیصرؔ سنانا بھی مجھے دشوار لگتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے