زندگی خوب سمجھتا ہوں اشارے تیرے
زندگی خوب سمجھتا ہوں اشارے تیرے
جانتا ہوں کہ کدھر جاتے ہیں دھارے تیرے
ہو گئے غرق سب آنکھوں سے اتارے تیرے
موت ان کو بھی ملی جو تھے ابارے تیرے
روز کتنوں کو ہی مٹی میں ملا دیتے ہیں
آسماں پھر بھی چمکتے ہیں ستارے تیرے
کشتیٔ جسم پہ چڑھتا نہیں ہے دوبارہ
اک دفعہ جو بھی اترتا ہے کنارے تیرے
زندگی اس میں ہی بکھرا ہے مرا شیرازہ
میں نے تا عمر فقط گیسو سنوارے تیرے
اے خدا تو نے لگایا ہے یہ بازار دہر
ہم بشر ہی کو اٹھانے ہیں خسارے تیرے
جتنے دل سوز ہیں قدرت یہ حوادث تیرے
اتنے دلکش تو نہیں ہیں یہ نظارے تیرے
اس کا احسان میں مر کر ہی چکا پاؤں گا
زندگی میں نے بہت لمحے گزارے تیرے
تو جو ہے آتش خاموش سمجھ لے ساحلؔ
ٹھنڈے پڑ جائیں گے اک روز شرارے تیرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.