پست لہجہ تھا تمہارا مجھ کو سمجھاتے ہوئے
پست لہجہ تھا تمہارا مجھ کو سمجھاتے ہوئے
ہارنے کا خوف طاری ہو گیا جاتے ہوئے
موت نے کیوں جیتے جی ہی مار ڈالا ہے مجھے
دل مرا یہ کہہ رہا تھا اس کو کفناتے ہوئے
ایک دن پوچھا تھا میں نے پیار کرتے ہو مجھے
سوچ کر کچھ ہاں کہا تھا اس نے شرماتے ہوئے
اب کسی جھگڑے میں شامل ہو نہیں سکتا کبھی
میں الجھتا جا رہا ہوں خود ہی سلجھاتے ہوئے
حسن نے مغرور جن کو کر دیا تھا آخرش
آج ان پھولوں کو دیکھا کتنا مرجھاتے ہوئے
ہاتھ خالی تھے ہمارے اور کھلونا یاد تھا
دل پہ پتھر رکھ لیا ہے اپنے گھر جاتے ہوئے
چھت پہ جا کے روز ہی رکھا کرو مقصودؔ جی
مانگتے ہیں پانی پنچھی پر کو پھیلاتے ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.