مریض ہجر مسیحا سے بھی سنبھل نہ سکا
مریض ہجر مسیحا سے بھی سنبھل نہ سکا
کسی کا زور مقدر کے آگے چل نہ سکا
فروغ گور غریباں کی ہے صبا دشمن
چراغ قبر گھڑی دو گھڑی بھی جل نہ سکا
تھکا ہوا تھا بہت اس لیے لحد میں مجھے
وہ نیند آئی کہ کروٹ کوئی بدل نہ سکا
وہ کیا کسی کے مقدر کا بل نکالیں گے
کہ جن کے ہاتھوں سے گیسو کا بل نکل نہ سکا
غم فراق سے مر کر ہوئی سبک دوشی
یہ بوجھ وہ تھا جو تا زیست سر سے ٹل نہ سکا
ہزاروں کٹ گئے قاتل کی اس نزاکت پر
اٹھایا ہاتھ سے خنجر مگر سنبھل نہ سکا
نکلنے پایا نہ قاتل کا حوصلہ بسملؔ
وہ سخت جاں ہوں کہ خنجر گلے پہ چل نہ سکا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.