Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مریض ہجر مسیحا سے بھی سنبھل نہ سکا

بسمل سنسہاروی گیاوی

مریض ہجر مسیحا سے بھی سنبھل نہ سکا

بسمل سنسہاروی گیاوی

MORE BYبسمل سنسہاروی گیاوی

    مریض ہجر مسیحا سے بھی سنبھل نہ سکا

    کسی کا زور مقدر کے آگے چل نہ سکا

    فروغ گور غریباں کی ہے صبا دشمن

    چراغ قبر گھڑی دو گھڑی بھی جل نہ سکا

    تھکا ہوا تھا بہت اس لیے لحد میں مجھے

    وہ نیند آئی کہ کروٹ کوئی بدل نہ سکا

    وہ کیا کسی کے مقدر کا بل نکالیں گے

    کہ جن کے ہاتھوں سے گیسو کا بل نکل نہ سکا

    غم فراق سے مر کر ہوئی سبک دوشی

    یہ بوجھ وہ تھا جو تا زیست سر سے ٹل نہ سکا

    ہزاروں کٹ گئے قاتل کی اس نزاکت پر

    اٹھایا ہاتھ سے خنجر مگر سنبھل نہ سکا

    نکلنے پایا نہ قاتل کا حوصلہ بسملؔ

    وہ سخت جاں ہوں کہ خنجر گلے پہ چل نہ سکا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے