کل کائنات ہم نے اتاری ہے قبر میں
کل کائنات ہم نے اتاری ہے قبر میں
اس کا بدن ہے جان ہماری ہے قبر میں
اک موت پر کھلے ہیں زمانے کے سارے راز
تھوڑی سی دیر ہم نے گزاری ہے قبر میں
ضم ہوتے جا رہے ہیں لحد میں ذرا ذرا
ایسی کوئی ہماری دلاری ہے قبر میں
ماں بھی نہیں ہے پھر بھی دعائیں ہیں میرے ساتھ
یعنی کوئی تو سلسلہ جاری ہے قبر میں
کیا چند روز ہی ہیں ملاقات کے لیے
کیا اس کے بعد زندگی ساری ہے قبر میں
تم ایک دن تو آ کے مرے پاس بیٹھنا
حارثؔ بس ایک رات ہی بھاری ہے قبر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.