خواب مر جائیں گے خود بہ خود ایک دن خواب کی چاہ بھی مار دی جائے گی
خواب مر جائیں گے خود بہ خود ایک دن خواب کی چاہ بھی مار دی جائے گی
آتش دل بھی پڑ جائے گی سرد اور ایک دن قوت آہ بھی جائے گی
رفتہ رفتہ کٹے گی شب زندگی دھیمے دھیمے جلے گا چراغ بقا
صبح لائے گی دست صبا میں فنا اور پھر دور تک روشنی جائے گی
ایک دن میرے کمرے کی ٹھنڈی ہوا سرد کر دے گی میرا بدن اور پھر
اک لٹکتی ہوئی مردہ رسی کے گرد ایک زندہ کہانی بنی جائے گی
میرے کمرے کی تنہائیاں مستقل دیتی رہتی ہیں مجھ کو دلاسہ یہی
ایک دن آپ سے ملنے آئیں گے لوگ ایک دن آپ پر بات کی جائے گی
موت کی راہ پر زندگی سے پرے بھیڑ کے ساتھ خاموشیوں کی طرف
جسم بھی گنگناتا ہوا جائے گا روح بھی مسکراتی ہوئی جائے گی
سوچتا ہوں کہ یہ خندہ لب شوخ جاں ایک دن ناگہاں مر گیا جو سفیرؔ
پھر کہاں سر چھپائے گا شوق جنوں کس کے گھر خوئے آوارگی جائے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.