جی میں آتا تو ہے مر جائیں مگر کیسے مریں
جی میں آتا تو ہے مر جائیں مگر کیسے مریں
سیکڑوں مشورے ہیں ایسے مریں ایسے مریں
شیشۂ خواب کو دے ماریں کسی پتھر پر
اور اس شور کی جھلائی ہوئی لے سے مریں
عشق میں مرنے کے آداب سے واقف نہیں شہر
دشت اپنائیں کسی ہجر نما شے سے مریں
ان کو اس جشن میں آنے کا کوئی شوق نہیں
آپ کی مرضی ہے جب چاہیں جہاں جیسے مریں
ہم کو تو نشۂ آزار فنا کی ہے طلب
ایسے غم کب ہیں ہمیں جو قدح مے سے مریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.