Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جب سے الفت کے زیر اثر ہو گئی

ظفر مرزاپوری

جب سے الفت کے زیر اثر ہو گئی

ظفر مرزاپوری

MORE BYظفر مرزاپوری

    جب سے الفت کے زیر اثر ہو گئی

    زندگی موت سے بے خبر ہو گئی

    جب غزل میں کوئی حسن آیا نظر

    یاد تازہ جناب جگر ہو گئی

    پوچھتے ہیں وہ رخ کی شکن دیکھ کر

    ختم کیسے ضیائے قمر ہو گئی

    سارے عالم کو گھیرے تھیں تاریکیاں

    آپ تشریف لائے سحر ہو گئی

    شاخ سے ٹوٹتے ہی یہ کیا ہو گیا

    پھول کی زندگی مختصر ہو گئی

    کوئی تعریف اچھائیوں کی نہیں

    اک خطا پہ جہاں کی نظر ہو گئی

    گھر سے نکلے تھے ہم راحتیں ڈھونڈنے

    دکھ سر راہ تھی ہم سفر ہو گئی

    یہ وطن کیا بٹا کتنے انساں بٹے

    ایک بستی ادھر کی ادھر ہو گئی

    سادے کاغذ پہ میرا قلم چل پڑا

    ہر تخیل بہار ظفرؔ ہو گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے