ہمیں جو بھانے لگی بے گھری تو کیا ہوگا
ہمیں جو بھانے لگی بے گھری تو کیا ہوگا
یہ دشت گردی رہی دائمی تو کیا ہوگا
وہ اک خیال کہ جس سے ہے زندگی میں خوشی
اسی خیال کو موت آ گئی تو کیا ہوگا
تم اپنا بھائی تو کہتے ہو پر مرے بھائی
کبھی جو درمیاں ان بن ہوئی تو کیا ہوگا
یوں کھلکھلا کے ہنسو ٹھیک ہے مگر سوچو
لبوں سے چھین لے کوئی خوشی تو کیا ہوگا
سخاوتوں کے نتائج برے نکلتے ہیں
دکھائی میں نے جو دریا دلی تو کیا ہوگا
ہے چند روز کی مہمان چاندنی راتیں
سیاہ رات جو پھر آ گئی تو کیا ہوگا
یہ چار دن کی کہاوت تو ٹھیک ہے اظہرؔ
اگر طویل ہوئی زندگی تو کیا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.