ہم اگر چاک پر دھرے جاتے
ہم اگر چاک پر دھرے جاتے
رنگ تصویر میں بھرے جاتے
کوئی تو بات ہے حسینوں میں
لوگ ایسے نہیں مرے جاتے
رہ نکالو مفاہمت کی کوئی
فیصلے یوں نہیں دھرے جاتے
موت کا وقت جب مقرر ہے
ہم تو یونہی ہیں بس ڈرے جاتے
سادہ لوگوں کے ذہن میں امجدؔ
کس طرح زہر ہیں بھرے جاتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.