بادل ہے یہ نہ دھند ہے موسم کا جال ہے
بادل ہے یہ نہ دھند ہے موسم کا جال ہے
سورج نکل پڑے تو ہوا کا کمال ہے
پر مار کر لحاظ کا پنچھی بجھا نہ دے
روشن سکوت لب پہ چراغ سوال ہے
میرا لہو ہے رنگ شفق میں گھلا ہوا
میرا طلوع ظلمت شب کا زوال ہے
گہرا سا ہے چٹان کے سینے میں اک شگاف
باریک سا اگا ہوا شیشے میں بال ہے
ڈر کر گداز جسم کو ہاتھوں سے چھو کے دیکھ
اس خوفناک سانپ کی کیا نرم کھال ہے
کاغذ کی کشتیاں تہ دریا اتر گئیں
سیلاب میں گھرا ہوا شہر خیال ہے
ایسا نہ ہو کہ درد کا لاوا ابل پڑے
اس آب منجمد میں بلا کا ابال ہے
سایہ سمٹ کے میرے بدن میں سما گیا
اس سے بچھڑ کے اب مرا خود سے وصال ہے
صدیقؔ روز و شب کا سماں ایک سا رہا
کتنا سپاٹ سلسلۂ ماہ و سال ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.