Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بادل ہے یہ نہ دھند ہے موسم کا جال ہے

صدیق افغانی

بادل ہے یہ نہ دھند ہے موسم کا جال ہے

صدیق افغانی

MORE BYصدیق افغانی

    بادل ہے یہ نہ دھند ہے موسم کا جال ہے

    سورج نکل پڑے تو ہوا کا کمال ہے

    پر مار کر لحاظ کا پنچھی بجھا نہ دے

    روشن سکوت لب پہ چراغ سوال ہے

    میرا لہو ہے رنگ شفق میں گھلا ہوا

    میرا طلوع ظلمت شب کا زوال ہے

    گہرا سا ہے چٹان کے سینے میں اک شگاف

    باریک سا اگا ہوا شیشے میں بال ہے

    ڈر کر گداز جسم کو ہاتھوں سے چھو کے دیکھ

    اس خوفناک سانپ کی کیا نرم کھال ہے

    کاغذ کی کشتیاں تہ دریا اتر گئیں

    سیلاب میں گھرا ہوا شہر خیال ہے

    ایسا نہ ہو کہ درد کا لاوا ابل پڑے

    اس آب منجمد میں بلا کا ابال ہے

    سایہ سمٹ کے میرے بدن میں سما گیا

    اس سے بچھڑ کے اب مرا خود سے وصال ہے

    صدیقؔ روز و شب کا سماں ایک سا رہا

    کتنا سپاٹ سلسلۂ ماہ و سال ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے