Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اپنی مستی کہ ترے قرب کی سرشاری میں

ثناء اللہ ظہیر

اپنی مستی کہ ترے قرب کی سرشاری میں

ثناء اللہ ظہیر

MORE BYثناء اللہ ظہیر

    اپنی مستی کہ ترے قرب کی سرشاری میں

    اب میں کچھ اور بھی آسان ہوں دشواری میں

    کتنی زرخیز ہے نفرت کے لئے دل کی زمیں

    وقت لگتا ہی نہیں فصل کی تیاری میں

    اک تعلق کو بکھرنے سے بچانے کے لیے

    میرے دن رات گزرتے ہیں اداکاری میں

    وہ کسی اور دوا سے مرا کرتا ہے علاج

    مبتلا ہوں میں کسی اور ہی بیماری میں

    اے زمانے میں ترے اشک بھی رو لوں گا مگر

    ابھی مصروف ہوں خود اپنی عزا داری میں

    اس کے کمرے سے اٹھا لایا ہوں یادیں اپنی

    خود پڑا رہ گیا لیکن کسی الماری میں

    اپنی تعمیر اٹھاتے تو کوئی بات بھی تھی

    تم نے اک عمر گنوا دی مری مسماری میں

    ہم اگر اور نہ کچھ دیر ہوا دیں تو یہ آگ

    سانس گھٹنے سے ہی مر جائے گی چنگاری میں

    تم بھی دنیا کے نکالے ہوئے لگتے ہو ظہیرؔ

    میں بھی رہتا ہوں یہیں دل کی عمل داری میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے