سب حادثات بخت ہوا میں اچھال دے
سب حادثات بخت ہوا میں اچھال دے
دنیا کے سارے غم اسی جھولی میں ڈال دے
بے خوف ہو کے جینے کا انداز سیکھ لے
ناکامیوں کا خوف جگر سے نکال دے
خود چل کے زیر پا ترے آئیں گی منزلیں
ہاتھوں سے ایسے اپنے مقدر کو ڈھال دے
میکشؔ تمام عمر رہے سب سے بے خبر
مرشد کچھ ایسی مے مرے پیالے میں ڈال دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.