Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آپ کی سن کر غزل میں شادماں ہونے لگا

حسن امام فدائی

آپ کی سن کر غزل میں شادماں ہونے لگا

حسن امام فدائی

MORE BYحسن امام فدائی

    آپ کی سن کر غزل میں شادماں ہونے لگا

    یہ غزل میں نے کہی ہے یہ گماں ہونے لگا

    وقت ہی نے سی دیے تھے ہونٹ میرے کیا کروں

    میرا لکھا غیر کے لب سے بیاں ہونے لگا

    سرفرازی کا وہ اندازہ کرے بھی کس طرح

    جو زمیں پر رہتے رہتے آسماں ہونے لگا

    جس کو رستے کا پتا ہے اور نہ منزل کا سراغ

    آدمی ایسا بھی میر کارواں ہونے لگا

    ایک چنگاری نے وہ آفت مچائی کچھ نہ پوچھ

    چند لمحوں میں مکاں جل کر دھواں ہونے لگا

    وقف کر دی میں نے اپنی زندگی جس کے لیے

    وہ مرا ہو کر بھی اب میرا کہاں ہونے لگا

    داستان زندگی کس کو سناؤں میں حسنؔ

    اب بڑھاپے میں بدن میرا کماں ہونے لگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے