منزل گم راہوں کے نشاں معلوم نہیں
منزل گم راہوں کے نشاں معلوم نہیں
آج کا دن گزرے گا کہاں معلوم نہیں
ان لوگوں سے یوں بھی کیا کہہ سکتا ہوں
جن لوگوں کو دل کی زباں معلوم نہیں
آؤ ہم سے پوچھ لو درد کی اک اک بات
کب کٹ جائے گی یہ زباں معلوم نہیں
اہل خرد کو شوق ہوا ہے وحشت کا
لیکن رسم و رہ زنداں معلوم نہیں
ہم برسوں سے پتھر کے اس شہر میں ہیں
کیسا ہے شیشے کا جہاں معلوم نہیں
کن رستوں سے آتا ہے اب موسم گل
اب کھلتے ہیں پھول کہاں معلوم نہیں
موسم ہے نم رنگ ہوا کا گیلا ہے
کیوں اٹھتا ہے دل سے دھواں معلوم نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.