Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا

وحشت کلکتوی

میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا

وحشت کلکتوی

MORE BYوحشت کلکتوی

    میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا

    ہے تغافل شیوہ آخر کس ستم ایجاد کا

    ہائے وہ دل جو ہدف تھا ناوک بیداد کا

    درد سہتا ہے وہی اب غفلت صیاد کا

    نرگس مستانہ میں کیفیت جام شراب

    قامت رعنا پہ عالم مصرعۂ استاد کا

    مانع فریاد ہے کچھ طبع کی افسردگی

    کچھ سکوت آموز ہے پاس ادب صیاد کا

    اس قدر دل کش رہا تیرا اگر انداز جور

    زخم دل منہ چوم لے گا خنجر بیداد کا

    مجلس ماتم بنی آنے سے ان کے بزم عیش

    پڑ گیا پھولوں میں میرے غل مبارک باد کا

    تو نہ کر ترک ستم ظالم ستم ہو جائے گا

    جان سے جائے گا خوگر لذت بیداد کا

    درد ناکام ہجوم آرزو کا ہے مآل

    تلخئ حسرت نتیجہ شوق الفت زاد کا

    حسرت افزا ہے بہت میرے دل ویراں کا جال

    کون ہے فرماں روا اس ملک غیر آباد کا

    لطف ہی آتا رہا ہے سعی باطل میں مجھے

    ہے یہاں افسوس کس کو محنت برباد کا

    کھینچ کر لے چل مجھے شوق اسیری سوئے دام

    کام ایسا کر کہ جس سے جی بڑھے صیاد کا

    کس کو شکوہ ہجر کا اور کس کو حسرت وصل کی

    لطف پروردہ ہے میرا دل کسی کی یاد کا

    یہ ادائے دلربایانہ یہ انداز حیا

    کس طرح پھر کام کرتی ہے نظر جلاد کا

    وحشتؔ اس بت نے تغافل جب کیا اپنا شعار

    کام خاموشی سے میں نے بھی لیا فریاد کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے