الزام بے وفائی کے سب اپنے سر گئے
الزام بے وفائی کے سب اپنے سر گئے
جیسے پرندے شام ڈھلے اپنے گھر گئے
دیر و حرم گئے نہ گئے سوئے مے کدہ
ہم تیرے آستانہ پہ شام و سحر گئے
لے کر شراب پینے چلے جام بادہ کش
جس شام ان کے چہرے پہ گیسو بکھر گئے
جب سے کسی کی نظر کرم ہم پہ ہو گئی
کچھ خاص دوستوں کے بھی چہرے اتر گئے
جس دن سے میکدے میں گزر بند ہو گیا
ساقی یہ پوچھتا ہے کے میکشؔ کدھر گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.