اب کہاں اجتناب کے دن ہیں
اب کہاں اجتناب کے دن ہیں
ساقیا یہ شراب کے دن ہیں
زلف لہرائی کہ گھٹا چھائی
شوق کے احتساب کے دن ہیں
پھر جبیں سائی کر رہا ہے عشق
حسن کے اضطراب کے دن ہیں
ان خرابوں میں جو خراب ہوا
اسی خانہ خراب کے دن ہیں
یہ ہے مے خانہ و صنم خانہ
راہ کے انتخاب کے دن ہیں
سوئے مے خانہ آ رہا ہے کوئی
مے کشو پیچ و تاب کے دن ہیں
رات جس بزم میں کٹی واصفؔ
اسی محفل کے خواب کے دن ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.