منظر کوئی مانوس نظر بھی نہ ملے گا
منظر کوئی مانوس نظر بھی نہ ملے گا
تاخیر سے لوٹو گے تو گھر بھی نہ ملے گا
اک خاص بلندی پہ ہیں تیغوں کی قطاریں
قد اور بڑھاؤ گے تو سر بھی نہ ملے گا
بچوں نے کیا ہے نئی سمتوں کا تعین
استاد سے اب کوئی ہنر بھی نہ ملے گا
الفاظ کے شہکار لیے پھرتے ہو ساحلؔ
انعام تو کیا زاد سفر بھی نہ ملے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.