اس بار تو محرومیٔ امید غضب تھی
اس بار تو محرومیٔ امید غضب تھی
یہ بھی نہ رہا یاد کہ کس شئے کی طلب تھی
ناکامی کو تقدیر کے پردے میں چھپا لیں
اور خود ہی دلاسہ دیں یہی مرضیٔ رب تھی
کس طرح کریں اپنی نگاہوں پہ بھروسہ
اے زندگی تجھ میں تو کوئی اور ہی چھب تھی
تنہائی کے جلتے ہوئے خوابوں نے بتایا
وہ صبح کا قصہ نہیں افسانۂ شب تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.