حاصل شام و سحر کس کو بتاؤں کیا رہا
حاصل شام و سحر کس کو بتاؤں کیا رہا
کون جانے گا کہ دریا میں بھی میں پیاسا رہا
کوئی غم کوئی پریشانی نہ پاس آئی مرے
میرے سر پر جب تلک ماں باپ کا سایہ رہا
کیا شکایت منزل مقصود مل جانے کے بعد
رہبروں کا ساتھ جیسا بھی رہا اچھا رہا
مفلسی میں بھی رہا محفوظ رسوائی سے میں
تیری یادوں کے سہارے عمر بھر تنہا رہا
مشغلوں میں بھی ہمارے حوصلے ٹوٹے نہیں
آندھیوں میں بھی چراغ فکر و فن جلتا رہا
زندگی کیا چیز ہے آذرؔ سمجھ پائے نہ ہم
اس معمے کا خلاصہ ہو کے بھی پردہ رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.