یہ شہر ہر دل کی آرزو ہے یہ لکھنؤ ہے یہ لکھنؤ ہے
یہ شہر ہر دل کی آرزو ہے یہ لکھنؤ ہے یہ لکھنؤ ہے
یہ میرؔ و ناسخؔ کی آبرو ہے یہ لکھنؤ ہے یہ لکھنؤ ہے
جو لکھنؤ دیکھنا ہو تم کو ضرور دیکھو مگر بتاؤ
نگاہ بھی کیا یہ با وضو ہے یہ لکھنؤ ہے یہ لکھنؤ ہے
نہ تو تڑاکا نہ بد تمیزی ادب سے باتیں ادب کی باتیں
جدا ہی انداز گفتگو ہے یہ لکھنؤ ہے یہ لکھنؤ ہے
جہاں پہ اردو نے حسن پایا وہاں پہ ہم بھی ادب کو سیکھیں
ہر ایک دل کی یہ آرزو ہے یہ لکھنؤ ہے یہ لکھنؤ ہے
نگاہیں حیران کرنے والے سبھی نظارے بڑے نرالے
ہر ایک منظر ہی خوبرو ہے یہ لکھنؤ ہے یہ لکھنؤ ہے
کہیں بھی جائیں سکوں نہ پائیں خیال اس کا ہی روبیؔ آئے
ہمیں تو بس جس کی جستجو ہے یہ لکھنؤ ہے یہ لکھنؤ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.