سونا پڑا ادب کا ہے بازار آج کل
سونا پڑا ادب کا ہے بازار آج کل
دکھتے نہیں سخن کے خریدار آج کل
تم نے مرے مزاج کو مجبور کر دیا
الفاظ کر رہے ہیں جو تکرار آج کل
اب دشمنوں کی کوئی ضرورت نہیں مجھے
آنکھیں بدل رہے ہیں مرے یار آج کل
اخلاق کا پتا تو چلا مشکلوں کے وقت
شانہ بہ شانہ آ گئے اغیار آج کل
جس نے ضمیر بیچ کے دولت کمائی ہے
وہ دیکھتا ہے کیوں مرا معیار آج کل
انجام یہ ہوا ہے تری نفرتوں کا دیکھ
ردی میں بک رہا ہے وہ اخبار آج کل
غافلؔ تمہیں گریز تھا کل تک تو عشق سے
اب ہو رہے ہو عشق میں بیمار آج کل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.