ملیں گے ہر طرف خوشبو کو خوشبو بولنے والے
ملیں گے ہر طرف خوشبو کو خوشبو بولنے والے
کہاں جائیں کدھر جائیں اب اردو بولنے والے
تمہاری شان میں شکوے کی گستاخی نہ کر بیٹھیں
مری پلکوں پہ آ جاتے ہیں آنسو بولنے والے
شب تنہائی میں ہم لب نہ سی لیتے تو کیا کرتے
ستارے سننے والے تھے نہ جگنو بولنے والے
تمہارے پیار نے سب کو مخالف کر دیا میرا
کئی احباب تھے پہلو بہ پہلو بولنے والے
قضا الفاظ کی شعلہ بیانی چھین لیتی ہے
ہوئے خاموش چنگیز و ہلاکو بولنے والے
تجارت کا بھروسہ کھو دیا دکان داروں نے
بنائے جائیں اب ساحلؔ ترازو بولنے والے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.