بڑھائیے نہ زمانے سے رسم و راہ بہت
بڑھائیے نہ زمانے سے رسم و راہ بہت
پری جمالوں کے ہوتے ہیں خیر خواہ بہت
ستائش لب و رخسار کچھ خطا تو نہ تھی
ذرا سی بات پہ بگڑے وہ خواہ مخواہ بہت
رخ و جبیں پہ جو ان کے کبھی نظر کرتے
نہ آب و تاب دکھاتے یہ مہر و ماہ بہت
جنون عشق نے منزل کو جا لیا ورنہ
قدم قدم پہ ہوئی عقل سد راہ بہت
زمانہ اب بھی ہے فرہاد و قیس پہ ناقد
محبتوں کے خطا وار کم گواہ بہت
یہ جبر و قدر ہیں کیا خیر و شر ہیں کیا لیکن
گئے گناہ بہت کم ہوئے گناہ بہت
کچھ اور فکر سخن کا صلہ ہو کیا تاباںؔ
تمہاری آہ کو ملتی ہے واہ واہ بہت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.