بھیگے پروں سے اڑنے کی خواہش تمام شد
بھیگے پروں سے اڑنے کی خواہش تمام شد
یوں حوصلوں کی ہو گئی کوشش تمام شد
جلتے بدن پہ ہاتھ مسیحا نے جب رکھا
یک لخت ہو گئی مری سوزش تمام شد
اٹھتا دھواں تو شعلے لپکتے بھی ہر طرف
پل میں خدا بھی کرتا ہے آتش تمام شد
مت کر گلہ کسی کا پس پشت تو کبھی
رب پر یقین رکھ کہ ہو سازش تمام شد
ہم ساری عمر جیتے ہیں اپنے مزاج سے
پیری میں آ کے ہوتی ہے لغزش تمام شد
اظہرؔ نے نیند کھو کے کہی ہے نئی غزل
اہل سخن کو بھا گئی کاوش تمام شد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.